Friday, 27 October 2017

ملک بھر کی 75فیصد ہاؤسنگ کالونیوں میں فراڈ کا انکشاف

0 comments


ملک بھر کی 75فیصد ہاؤسنگ کالونیوں میں فراڈ کا انکشاف

ملک بھر کی 75فیصد ہاؤسنگ کالونیوں میں فراڈ کا انکشاف

موجودہ سرکاری افسروں نے لینڈ مافیا کے ساتھ مل کر ہاؤسنگ کالونیوں کا جال بچھا کر عوام کو لوٹنا شروع کر دیا ،پانچ سو سے پانچ ہزار تک پلاٹوں کی گنجائش والی کالونیوں میں دس دس ہزار فائلیں فروحت کی جاتی ہیں۔

لاہور( اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔27اکتوبر2017ء ):پاکستان بھر میں 75فیصد چھوٹی بڑی کالونیوں میں فراڈ کا انکشاف ہوا ہے ،ایک ایک پلاٹ کی فائل کو چھ چھ مرتبہ فروخت کیا جاتا ہے ،زیادہ تر اس میں ان لوگوں کے ساتھ فراڈ کیا گیا ہے جو اوورسیز پاکستانی ہیں ،حساس اداروں کی بنائی گئی خفیہ رپورٹ میں واضح طور پر لکھا گیا ہے با اثر سرکاری افسران لینڈ مافیا کے ساتھ مل کر ہاؤسنگ کالونیوں کا جھانسہ دے کر غریب عوام لوٹ رہے ہیں ۔
بعد ازاں قسطیں لیٹ ہونے کا بہانہ بنا کر بغیر کسی نوٹس کے پلاٹ کینسل کر دیئے جاتے ہیں ۔متاثرین جب اپنی رقم واپس لینے کے لئے جاتے ہیں تو کئی کئی سال تک ان کو چکر لگائے جاتے ہیں ۔ پنجاب سمال انڈسٹری ہاؤسنگ سوسائٹی کے بڑے رقبہ پر پنجاب حکومت کے اہم ذمہ داران نے قبضہ کر رکھا ہے اور اس کا فیصلہ سپریم کورٹ سے آنے کے باوجود بھی آج تک متعلقہ ادارے ان کے خلاف کوئی ایکشن نہ لے سکے ۔
جبکہ کراچی میں سیاسی شخصیات کے ساتھ مل کر پولیس کے اعلی افسران لینڈ مافیا بن چکے ہیں جو کہ سرکاری رقبہ اور کمزور افراد کی زمینوں پر قبضہ کر کے یا اونے پونے داموں میں زمین خرید کر اسی طرح پلاٹوں کی صورت میں فروخت کر رہے ہیں اور ایک ایک پلاٹ کے آٹھ آٹھ مالک نظر آ رہے ہیں ۔خفیہ رپورٹ میں یہ بھی واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ اس کام میں تحصیل داروں،پٹواریوں اور ریونیوبورڈ کی ملی بھگت سے سب کچھ ہو رہا ہے ،اب تک 19352کیس سامنے آ چکے ہیں جو اوور سیز پاکستانیوں کے ہیں ۔ جب کہ قومی اخبار کے مطابق 2لاکھ درخواستیں مختلف افراد کی جانب سے دی گئیں ہیں ۔ 

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔