پاکستان نے بھارت کو تجارتی راہداری میں شامل کرنے کا افغان مطالبہ مسترد کردیا
دوشنبے:
تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں پاکستان، تاجکستان اور افغانستان کا سہہ فریقی سربراہ اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستانی وزیراعظم نوازشریف، افغان صدر اشرف غنی اور تاجک صدر امام علی نے شرکت کی۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے پرامن حل کے خواہاں ہیں
اجلاس اس وقت بے نتیجہ ثابت ہوا جب افغانستان نے سہہ فریقی تجارتی راہداری میں بھارت کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کردیا۔ وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اور زیادتی کررہا ہے، بھارتی فوج کی جانب سے مظلوم نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا جائے اور ہم بھارت کو تجارتی رعایت دیں یہ کسی صورت ممکن نہیں۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: کاسا منصوبے سے سستی اور ماحول دوست بجلی ملے گی
نوازشریف کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک بھارت کو تجارتی رعایت نہیں دی جاسکتی تاہم ہم نے افغانستان کو راستہ دے رکھا ہے اس کے سامان کی ترسیل کو نہیں روکا جائے گا۔










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔